ہاں، میں آر ایس ایس کو سمجھنا چاہتا ہوں، اور صرف میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کو آر ایس ایس کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ اس لیے نہیں کہ آر ایس ایس ہمارا رول ماڈل ہے یا ہم اس کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک ایسی منظم مشینری کی مثال ہے جس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے غیر معمولی استقامت، قربانی، مسلسل جدوجہد، تنظیمی نظم و ضبط اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کیا ہے۔
ممکن ہے کہ میری یہ بات بعض احباب کو ناگوار گزرے، اور بظاہر ایک مسلمان قلمکار کی زبان سے ایسی بات عجیب بھی محسوس ہو۔ آخر اسلام جیسا مکمل ضابطۂ حیات رکھنے والی امت کو آر ایس ایس سے کیا سیکھنا ہے؟ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اسلام ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کے تمام اصول اور اسباب سکھاتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں کس حد تک نافذ کیا ہے؟
آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ اسلام پسندی اکثر چند عبادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا کر لیتے ہیں، ملی فلاح کے نام پر زکاۃ کے پیسوں سے مدارس تعمیر کر لیتے ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے چند جلسے منعقد کر دیتے ہیں، لیکن اجتماعی تعمیر، منظم منصوبہ بندی اور طویل مدتی جدوجہد کے میدان میں ہماری کمزوریاں واضح نظر آتی ہیں۔
دنیا داری کے نام پر ہم کاروبار بھی کرتے ہیں، لیکن دیانت داری، اجتماعی ذمہ داری اور وسائل کے درست استعمال کے معیار پر گفتگو کرنا شاید ہمارے لیے آسان نہیں۔ ہمارے لوگ کسی نہ کسی طرح دولت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر اس دولت کو قوم، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تعمیر میں کیسے استعمال کرنا ہے، یہ شعور ہم میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔
اس کے برعکس آر ایس ایس یا اس سے وابستہ افراد چیریٹی کے نام پر کسی کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتے، لیکن وہ اپنے وسائل، چندے اور افرادی قوت کو اپنے لانگ ٹائم مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔
میں پوری وضاحت کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی بھارت سمیت پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایک ایسے تصور پر قائم ہے جو تنوع، مساوات اور حقیقی جمہوری اقدار سے متصادم ہے۔ اس کے نظریات سے شدید اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی تنظیم کے نظریے سے اختلاف اس بات کا جواز نہیں بنتا کہ اس کی تنظیمی صلاحیتوں، کارکن سازی، منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت عملی کا مطالعہ بھی ترک کر دیا جائے۔
تاریخ کا اصول ہے کہ کامیاب قومیں صرف اپنے دوستوں سے نہیں سیکھتیں بلکہ اپنے مخالفین کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرتی ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ آخر وہ کون سی عادات، طریقۂ کار اور تنظیمی خوبیاں ہیں جنہوں نے کسی نظریے کو معاشرے میں جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا۔
آر ایس ایس کے کارکنوں نے اپنے مشن کو ذاتی مفادات، آسائشوں اور کئی مواقع پر گھر، خاندان اور نجی زندگی پر بھی ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک صدی کے عرصے میں یہ ایک محدود حلقے سے نکل کر ایک وسیع اور اثر انگیز تنظیمی ڈھانچے میں تبدیل ہو گئی۔
اگر یہ سمجھنا ہو کہ منتشر افراد کو اجتماعی قوت میں کیسے بدلا جاتا ہے، ایک نظریے کو نسلوں تک کیسے منتقل کیا جاتا ہے اور کارکنوں میں مستقل مزاجی کیسے پیدا کی جاتی ہے، تو آر ایس ایس یقیناً ایک اہم مطالعے کا موضوع ہے۔
آج اگر ہم اپنی حالت کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ہمارے پاس اسلام جیسا کامل نظام موجود ہے، لیکن ہم نے اسے انفرادی عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے تنظیم کو فرقوں میں تقسیم کر دیا، اجتماعی مفاد کو شخصیات کی نذر کر دیا اور طویل المدت منصوبہ بندی کی جگہ وقتی جذبات کو اپنا شعار بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود ہم مؤثر قوت نہیں بن پا رہے، جبکہ ہمارے مخالفین منظم حکمت عملی کے ذریعے اپنے مقاصد کے قریب پہنچتے جا رہے ہیں۔
ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم آر ایس ایس بن جائیں یا اس کے نظریات کو اختیار کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے ان اصولوں کو دوبارہ زندہ کریں جنہوں نے کبھی منتشر قبائل کو ایک امت میں بدل دیا تھا۔ دیانت، نظم و ضبط، ایثار، اجتماعی شعور، مقصد سے وابستگی اور نسلوں پر محیط منصوبہ بندی، یہ سب اسلام نے ہمیں صدیوں پہلے سکھا دیا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس رہنمائی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس رہنمائی کو زندگی کے نظام میں تبدیل کرنا چھوڑ دیا ہے۔
جس دن ہم نے اسلام کو صرف عقیدت کا موضوع بنانے کے بجائے ایک زندہ اجتماعی نظام کے طور پر اختیار کر لیا، اس دن ہمیں نہ آر ایس ایس سے سبق لینے کی ضرورت ہوگی اور نہ کسی دوسری تحریک سے۔ لیکن جب تک ہم اپنی کمزوریوں کا دیانت داری سے اعتراف نہیں کرتے، تب تک دوسروں کی کامیابیوں پر صرف تنقید کرتے رہنا ہماری حالت کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔
اس لیے آر ایس ایس کا مطالعہ دراصل آر ایس ایس کی تعریف نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور اپنی کھوئی ہوئی اجتماعی قوت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔

No comments:
Post a Comment