قرآن کریم دل کو سکون کیوں دیتا ہے؟
"شفاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ"
(سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا) کے پیچھے کیا راز ہے؟
آپ کی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں—شاید کسی تنگی، شدید بے چینی، یا گہرے دکھ کے وقت—آپ نے قرآنِ کریم کھولا ہوگا۔
یا کوئی آیت سنی ہوگی۔
اور آپ نہیں جانتے کہ کیسے... لیکن آپ نے کچھ محسوس کیا۔
یہ محض "موڈ کا بہتر ہونا" نہیں تھا۔
بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا احساس تھا۔
ایسا لگا جیسے کوئی بھاری بوجھ آپ کے سینے سے ہٹ گیا ہو۔
جیسے حلق میں پھنسی ہوئی کوئی گرہ کھل گئی ہو۔
ایک ایسی بے ساختہ اور ناقابلِ تشریح سکنیت اور اطمینان... حالانکہ آپ کا مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔
شاید آپ کی آنکھیں نم ہو گئی ہوں، آپ نے ایک گہرا سانس لیا ہو، اور بے اختیار کہا ہو: "سبحان اللہ۔"
لیکن سوال یہ ہے کہ: وہاں کیا ہوا تھا؟
کیسے کچھ الفاظ—صرف الفاظ—آپ کے سینے پر یہ اثر ڈال سکتے ہیں؟
کیا یہ محض ایک "نفساتی اثر" ہے؟
یا قرآن میں کچھ ایسا ہے جو بالکل مختلف اور منفرد ہے؟
اللہ فرماتا ہے: قرآن شفا ہے
اس سے پہلے کہ ہم سائنس اور تحقیق کی بات کریں، آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب کے بارے میں کیا فرمایا ہے:
"يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ"
[یونس: 57]
(اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آچکی ہے اور وہ سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے)
"شِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ"
یہاں "دل بہلانے" یا "عارضی تسلی" کی بات نہیں کی گئی۔ بلکہ شفا کہا گیا ہے۔
اور شفا کا مطلب ہے: بیماری کا خاتمہ، خرابی کی اصلاح، اور صحت کی بحالی۔
ایک اور آیت میں ارشاد ہے:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ"
[الإسراء: 82]
(اور ہم قرآن میں سے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہیں)
اور ایک تیسری جگہ فرمایا:
"قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ"
[فصلت: 44]
(آپ کہہ دیجیے کہ یہ (قرآن) ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے)
اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ "قرآن ایک خوبصورت کلام ہے۔"
یہ بھی نہیں فرمایا کہ "قرآن ایک مفید نصیحت ہے۔"
بلکہ فرمایا: شفا ہے۔
اور شفا کے لیے کسی بیماری کا ہونا ضروری ہے۔ تو وہ کون سی بیماری ہے جو سینوں میں ہوتی ہے؟
قرآن کی رو سے "صدر" (سینہ) سے مراد صرف پسلیوں کا پنجر نہیں ہے۔
سینہ دل کا مقام ہے۔ اور دل قرآن میں احساس، ادراک، اور ارادے کا مرکز ہے۔
اور جو بیماریاں "سینوں میں" ہوتی ہیں، وہ جسمانی بیماریاں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ روحی اور نفسیاتی بیماریاں ہیں:
شک و شبہ – "فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ" [ان کے دلوں میں بیماری ہے]
بے چینی مسلسل ذہنی تناؤ۔
دکھ اور غم – گہرا نفسیاتی درد۔
خوف – مستقبل کا ڈر۔
کینہ اور حسد – اندرونی زہر۔
خواہشات کی غلامی – نفسانی رغبتوں کے قابو میں ہونا۔
غفلت – ایسا دل جو اللہ کو محسوس نہ کر سکے۔
یہ سب بیماریاں ہیں... اور قرآن ان سب کی شفا ہے۔ مگر کیسے؟
1...پہلا درجہ:
صوتی اثر (آواز کے وہ ارتعاشات جو دماغ کو پرسکون کرتے ہیں)
آئیے سب سے آسان درجے سے شروع کرتے ہیں: یعنی آواز۔
حتیٰ کہ اگر آپ آیات کا مطلب نہ بھی سمجھ رہے ہوں—
خواہ آپ عربی نہ بھی جانتے ہوں—صرف قرآن کو سننا بھی اثر دکھاتا ہے۔ کیوں؟
2...تجوید: صوتی لہروں کا علم:
قرآن کا ایک انتہائی دقیق صوتی نظام ہے جسے ہم "تجوید" کہتے ہیں۔
مَد کے احکام (آواز کو کھینچنا)
غُنّہ کے احکام (ناک سے آواز نکالنا)
قلقلہ کے احکام (آواز میں جنبش پیدا کرنا)
حروف کے دقیق مخارج
یہ سب محض آرائش نہیں ہے، یہ ایک علم ہے۔
ملائیشین اسٹڈی (2013): قرآن دماغی لہروں کو بدل دیتا ہے
ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے محققین نے EEG (دماغی لہروں کا گراف) کے ذریعے قرآن سننے کے دوران دماغی سرگرمیوں کو ناپا۔
نتیجہ کیا نکلا؟
قرآن سننے سے دماغ میں الفا لہریں (Alpha Waves) بڑھ جاتی ہیں۔
الفا لہریں (8-13 Hz) وہ لہریں ہیں جن کا تعلق درج ذیل چیزوں سے ہے:۔۔
گہرا سکون اور استرخاء
اضطراب اور بے چینی میں کمی
توجہ اور ارتکاز میں بہتری
اندرونی امن کا احساس
اس کے برعکس، جب لوگ عام موسیقی یا عام گفتگو سنتے ہیں، تو دماغی لہریں بیٹا (Beta - تناؤ) اور تھیٹا (Theta - ذہنی خلفشار) کے درمیان الجھی ہوتی ہیں۔
لیکن قرآن دماغ کو بیدار حالت میں گہرے سکون میں لے جاتا ہے۔
سعودی اسٹڈی (2016):
قرآن کارٹیسول (Cortisol) کو کم کرتا ہے
کارٹیسول تناؤ اور اسٹرِیس کا ہارمون ہے۔
جب آپ پریشان، خوفزدہ یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، تو آپ کے خون میں کارٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔
اور مسلسل کارٹیسول کا ہائی رہنا ان کا سبب بنتا ہے:
بلڈ پریشر کا بڑھنا
قوتِ مدافعت کی کمزوری
ڈپریشن
دل کے امراض
کنگ سعود یونیورسٹی کے محققین نے مریضوں کے تھوک (Saliva) میں کارٹیسول کی سطح کو ناپا،
قرآن (سورہ رحمٰن) سننے
سے پہلے اور بعد میں۔
نتیجہ کیا رہا؟
کارٹیسول کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔
صرف 10 منٹ قرآن سننے سے تناؤ کا ہارمون جسمانی طور پر کم ہو گیا۔
یہ کوئی محض "نفسیاتی خیال" نہیں تھا،
بلکہ ایک حقیقی حیاتیاتی اور کیمیائی تبدیلی تھی۔
قرآن کا صوتی ردم زیادہ متوازن اور باقاعدہ ہے)۔
اور ایک تیسری چیز جسے وہ ناپ نہیں سکے... انہوں نے اسے "روحانی جہت" کا نام دیا۔
2....دوسرا درجہ:
معنوی اثر (وہ الفاظ جو شفا دیتے ہیں)
صرف صوتی اثر ہی سب کچھ نہیں ہے، الفاظ کے معنی اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔
الفاظ جسم پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟
یہ کوئی جادو نہیں، سائنس ہے۔
آپ کا دماغ "حقیقی خطرے" اور "خیالی خطرے" میں فرق نہیں کر سکتا۔
اگر آپ یہ جملہ پڑھیں:
"ایک دن آئے گا جب تم اکیلے مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی یاد نہیں رکھے گا"—
تو آپ کا جسم فوری ردعمل دے گا:
دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی۔
کارٹیسول خارج ہونا شروع ہو جائے گا۔
پٹھے تن جائیں گے۔
صرف چند الفاظ نے جسمانی تبدیلی پیدا کر دی۔
اس کے برعکس، اگر آپ پڑھیں: "تم سے محبت کی جاتی ہے، تم اہم ہو، تم امان میں ہو"—
تو آپ کا جسم پرسکون ہو جاتا ہے۔
اب ذرا اللہ تعالیٰ کے الفاظ کی طاقت کا تصور کریں۔
آیاتِ سکینہ:
دل کو تھپکی دینے والے الفاظ
قرآن میں کچھ ایسی آیات ہیں جنہیں پڑھتے یا سنتے ہی دل کو فوری سکون ملتا ہے۔ مثال کے طور پر:
"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ"
[الرعد: 28]
(سنو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے)
یہ محض ایک معلومات نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست دل کو اطمینان دینے والا مژدہ ہے۔
جب آپ اسے پڑھتے ہیں، تو آپ کے دماغ کو پیغام ملتا ہے: "اللہ کے ذکر سے دل پرسکون ہوتا ہے"۔
اور اگر آپ کا ایمان ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، تو آپ کا دل فوراً تسلیم کر لیتا ہے۔
یا جیسے فرمایا:
"لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا"
۔
[التوبة: 40]
(تو غم نہ کر، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے)
"لَا تَحْزَنْ" (غم نہ کر) – دل کو براہِ راست ایک حکم ہے۔
"إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے) –
اللہ کی معیت اور ساتھ ہونے کی تاکید ہے۔
جب آپ اسے دکھ کے لمحے میں پڑھتے ہیں، تو آپ کے سینے سے کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ کیوں؟
کیونکہ غم کی بنیاد تنہائی، بے بسی، اور مستقبل کے خوف پر ہوتی ہے۔
اور یہ آیت کہتی ہے: آپ اکیلے نہیں ہیں، اللہ آپ کے ساتھ ہے۔
اور اللہ تعالی نعوذباللہ محض ایک تماشائی نہیں ہے،
اللہ کا ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ وہ آپ کا حامی و ناصر ہے،
آپ کی حفاظت کرنے والا اور آپ کا نگران ہے۔
3....تیسرا درجہ:
عقلی اثر (افکار کی نئی ترتیب)
کبھی کبھی سینوں کی بیماری محض ایک "احساس" نہیں ہوتی،
بلکہ وہ سوچنے کا ایک غلط انداز ہوتی ہے۔
مثال: مستقبل کا خوف اور بے چینی
بے چینی (Anxiety) بنیادی طور پر اس چیز کا خوف ہے
جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔
آپ برے منظرنامے کا تصور کرتے ہیں
اور آپ کا جسم ایسے ردعمل دیتا ہے جیسے وہ حقیقت میں ہو رہے ہوں۔
قرآن اس کا علاج ایک واضح منطق سے کرتا ہے:
"وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ"
[الطلاق: 3]
(اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اسے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے)
"فَهُوَ حَسْبُهُ" – اللہ اسے کافی ہے۔ اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں۔
"إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ" – اللہ اپنا فیصلہ نافذ کر کے رہے گا،
خواہ آپ پریشان ہوں یا نہ ہوں۔ آپ کی پریشانی کچھ بدل نہیں سکتی،
لیکن آپ کا توکل آپ کو سکون ضرور دے گا۔ یہ ایک عقلی منطق بھی ہے اور قلبی اطمینان بھی۔
مثال: ماضی کے نقصانات پر کڑھنا
ماضی پر افسوس کرنا
—ندامت، جرم کا احساس، اور "اگر میں ایسا کرتا تو ویسا ہو جاتا"
جیسی سوچیں—روح کو مار دیتی ہیں۔ قرآن اس کا علاج یوں کرتا ہے:
"لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ"
[الحديد: 23]
(تاکہ تم اس چیز پر غمگین نہ ہو جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس پر اتراؤ جو اس نے تمہیں دی ہے)
"لِّكَيْلَا تَأْسَوْا"
– تاکہ تم غم نہ کرو۔
کیوں؟
کیونکہ جو گزر گیا... وہ گزر گیا۔ اور جو ہوا، وہ اللہ نے کسی حکمت کے تحت طے کر رکھا تھا۔
"مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا"
[الحديد: 22]
(نہ کوئی مصیبت زمین پر آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر، مگر وہ اس سے پہلے ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے کہ ہم اسے پیدا کریں)
سب کچھ لکھا ہوا ہے، طے شدہ ہے۔ اگر آپ کچھ اور بھی کرتے، تب بھی یہ بدلنے والا نہیں تھا۔ یہ سوچ انسان کو ماضی کے قید خانے سے عقلی طور پر آزاد کر دیتی ہے۔
مثال: موت کا خوف
موت کا خوف انسان کو مفلوج کر دیتا ہے۔
قرآن اس کا علاج یوں فرماتا ہے:
"قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا"
[التوبة: 51]
(آپ کہہ دیجیے کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے)
آپ اپنی موت کے وقت سے پہلے نہیں مر سکتے اور نہ ہی اس کے بعد ایک پل جی سکتے ہیں۔
"فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ"
[الأعراف: 34]
(پس جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں)
تو پھر یہ خوف کیسا؟ خوف موت کو ٹال نہیں سکتا، لیکن ایمان آپ کو موت آنے تک پرسکون زندگی ضرور دے سکتا ہے۔
4....چوتھا درجہ:
روحانی اثر (اصل سرچشمے سے تعلق)
مگر یہ سب کچھ—آواز، معنی، منطق—ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک اور گہرا راز ہے۔
قرآن صرف اللہ کے بارے میں نہیں ہے، قرآن اللہ کا کلام ہے
جب آپ قرآن پڑھتے ہیں، تو آپ صرف اللہ کے بارے میں نہیں پڑھ رہے ہوتے، بلکہ آپ براہِ راست اللہ کا کلام پڑھ رہے ہوتے ہیں۔
تصور کریں کہ آپ کو کسی ایسے شخص کا خط ملے جس سے آپ شدید محبت کرتے ہوں اور وہ سالوں سے دور ہو۔ صرف اس کے الفاظ پڑھنے سے آپ کو اس کی موجودگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ آپ اس کا قرب، اس کی شفقت اور محبت محسوس کرتے ہیں۔
(وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ)
اور اللہ کی شان تو سب سے بلند ہے۔
اب ذرا سوچیں کہ آپ اپنے خالق کا کلام پڑھ رہے ہیں:
"وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ"
[البقرة: 186]
(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں، تو میں یقیناً قریب ہوں)
"فَإِنِّي قَرِيبٌ" (میں قریب ہوں)۔
جب آپ یہ پڑھتے ہیں، تو یہ صرف ایک معلومات نہیں رہتی، یہ قربت کا ایک گہرا احساس بن جاتی ہے۔ اللہ آپ کو براہِ راست بتا رہا ہے کہ: "میں قریب ہوں"۔
"وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ" [ق: 16]
(اور ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں)
اللہ آپ کے اتنے قریب ہے، آپ کی اپنی ذات سے بھی زیادہ۔
روح اپنے خالق کے کلام کو پہچانتی ہے
امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
"دل میں ایک سختی ہوتی ہے جسے اللہ کے ذکر کے سوا کوئی چیز نرم نہیں کر سکتی۔"
"اور دل میں ایک وحشت (اکیلا پن) ہوتی ہے جسے اللہ کی انسیت کے سوا کوئی چیز دور نہیں کر سکتی۔"
"اور دل میں ایک حزن (غم) ہوتا ہے جسے اللہ کی معرفت کی خوشی کے سوا کوئی چیز ختم نہیں کر سکتی۔"
آپ کی روح—جو آپ کے اندر اللہ کی طرف سے پھونکی گئی ہے—اپنے خالق کے کلام سے واقف ہے۔ جب وہ اسے سنتی ہے، تو فوراً پہچان لیتی ہے۔
بالکل اسی طرح جیسے ایک چھوٹا بچہ، جب اپنی ماں کی آواز سنتا ہے تو فوراً پرسکون ہو جاتا ہے؛ کیونکہ وہ اس آواز کو پہچانتا ہے۔ آپ کی روح بھی اپنے خالق کی آواز کو پہچانتی ہے۔
قرآن کچھ لوگوں پر اثر کیوں نہیں کرتا؟
اب یہاں کوئی کہہ سکتا ہے: "لیکن میں نے بھی تو قرآن پڑھا تھا... مجھے تو کچھ محسوس نہیں ہوا؟"
ایسا کیوں ہوتا ہے؟
اللہ تعالیٰ نے خود اس کا جواب دیا ہے:
"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا"
[الإسراء: 82]
(اور ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور وہ ظالموں کے لیے نقصان کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا)
"لِّلْمُؤْمِنِينَ" (ایمان والوں کے لیے)۔
قرآن ایمان والوں کے لیے شفا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اللہ کسی کو شفا سے محروم رکھنا چاہتا ہے،
بلکہ اس لیے کہ جو شخص انکار کرتا ہے وہ اپنا دل قرآن کے لیے کھولتا ہی نہیں ہے۔
قرآن سے متاثر ہونے کی شرائط:
اس بات پر ایمان کہ یہ اللہ کا کلام ہے:
اگر آپ قرآن کو ایک "ادبی متن" یا "عربی ورثہ" سمجھ کر پڑھیں گے، تو یہ اثر نہیں کرے گا۔
کیونکہ آپ اسے اپنے رب کا پیغام سمجھ کر نہیں پڑھ رہے جو اس نے خاص آپ کے لیے بھیجا ہے۔
تدبر، نہ کہ صرف الفاظ کا گزارنا:
"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا"
[محمد: 24]
(تو کیا وہ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟)
تدبر کا مطلب ہے معنی پر غور کرنا، نہ کہ صرف آنکھوں کو حروف کے اوپر سے گزار دینا۔
کشادہ دل (Open Heart):
"أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا" –
کچھ دلوں پر تالے ہوتے ہیں۔ تکبر، خواہشات، گناہوں اور غفلت کے تالے۔ اور قرآن کسی بند اور مقفل دل میں داخل نہیں ہوتا۔
شفا کی طلب اور ضرورت کا احساس: جب آپ واقعی کسی تنگی میں ہوتے ہیں—بے چینی، غم یا خوف میں—تو آپ عاجزی سے اپنا دل کھول دیتے ہیں۔ اور جب دل کھلتا ہے، تو قرآن اندر اتر جاتا ہے۔
قرآن کوئی عام کتاب نہیں ہے
قرآن صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہے۔ قرآن ایک قوت اور طاقت ہے۔
"لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ"
[الحشر: 21]
(اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اسے اللہ کے خوف سے جھکا ہوا اور پاش پاش ہوتا ہوا دیکھتے)
تو پھر ایک انسان کے دل کا کیا معاملہ ہے؟
اگر ایک پہاڑ—اپنی تمام تر مضبوطی اور چٹان ہونے کے باوجود—اللہ کے کلام کے آگے جھک اور پھٹ سکتا ہے، تو آپ کا دل—جو نرم ہے، زندہ ہے، اور محسوس کرنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے—وہ تو سب سے پہلے متاثر ہونے کا حق رکھتا ہے۔
مگر ایک شرط پر:
کہ وہ دل پہاڑ سے زیادہ سخت نہ ہو چکا ہو۔
اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ"
"اے اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے
No comments:
Post a Comment