Saturday, 25 July 2026

دماغ کے لئے تعویذ


 


دوستو!!

آج کا عمل دماغی امراض ڈپریشن انزائٹی وغیرہ کیلئے ہے ،میں عمل اس چیز کو مدنظر رکھ کر پوسٹ کرتا ہوں کہ میرے ساتھ جڑے دوست کن مسائل کا شکار ہیں بس جو مسائل میرے سامنے آتے جاتے ہیں ایک ترتیب سے کوشش کررہا ہوں کہ ان مسائل کے حل کے لیے آپ دوستوں کو کوئی نا کوئی چیز دے دوں، دوستو!! پیج پر موبائل نمبر لگانا ایک طرح سے میرے لیے کسی آزمائش سے کم نہیں اپنی ذاتی زندگی کے معاملات فون کالز کی وجہ سے بہت ڈسٹرب ہوتے ہیں مگر پھر بھی میں کوشش کرتا ہوں کہ آپ لوگوں کی حتی الامکان رہنمائی کی کوشش کروں

🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁

دوستو!! 

جو نقش دیا گیا ہے اس کو تیار کرنے کا وقت ہر مسئلے کی نوعیت کے حساب سے الگ الگ ہے توجہ سے سمجھ لیں کہ کس مسئلے میں کب بنانا ہے، اگر اس نقش کو ذہنی امراض صرع/مرگی اور اس طرح کے جو اور پچیدہ ذہنی امراض ہیں ان کیلئے استعمال کرنا ہو تو پھر سوموار کے دن عطارد کی  ساعت لیں، اگر بدخوابی یعنی نیند کی کمی کیلئے بنانا ہو تو پھر بدھ کے دن زحل کی ساعت میں بنائیں اگر دل کی دھڑکن بے ترتیب ہے اور دماغی وسوسے اور فضول سوچیں ڈپریشن کا باعث بن رہی ہیں تو پھر جمعے کے دن قمر کی ساعت میں بنائیں ، یہ تین نقش بنائیں ایک گلے میں پہنا جائے گا ایک پانی میں ڈال کر پینا ہے اور ایک کدو کے روغن میں ڈال کر سر اور کنپٹیوں کی اچھی طرح مالش کرنی ہے، یہ ہے اس کا عام طریقہ استعمال اب اگر آپ تھوڑی ہمت کریں اور اسی نقش کو آپ بناسکیں تو شرف قمر میں یہ نقش چاندی کی پتری پر بنالیں پھر اس 

چاندی والے نقش کو پانی میں ڈال دیں اور وہ پانی روزانہ استعمال کرتے رہیں اور ایک نقش کاغذ پر بناکر روغن کدو میں ڈال لیں اور اس کی بتائے گئے طریقے سے مالش کریں چالیس دن چاندی والے نقش کا پانی پینے کے بعد چاندی والا نقش گلے میں پہن لیں ان شاءاللہ مالک کریم کے فضل سے شفاء ہوگی 

🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹🌹

نقش بنانے کا طریقہ بھی مختصر سمجھ لیں ، سب سے پہلے بسم اللہ لکھیں پھر اضلاع قولہ الحق ولہ الملک سے قائم کریں اس کے بعد نقش کے خانے بنائیں اور اعداد کو مربع آتشی چال کے مطابق نقش میں پر کردیں اعداد کو مکمل کرنے کے بعد اسماء الہی یارحمن یارحیم کو بھی مربع آتشی چال سے نقش میں پر کریں اس کو مکمل کرکے نقش کے چاروں طرف جو طلسمات لکھے ہوئے ہیں وہ لکھیں سب سے پہلے اوپر پھر بائیں طرف پھر نیچے پھر دائیں طرف اسی طرح چاروں کونوں میں یاحی یاقیوم لکھیں اور نقش کے نیچے عزیمت جو ہے وہ لکھ دیں اتنا سا کام ہے مربع آتشی چال کئی بار بتاچکا ہوں یہی سب سے معروف چال ہے پیج پر موجود ہے دیکھ کر اس کے مطابق نقش پر کریں 

دعاؤں میں یاد رکھیں 

حیدریم قلندرم مستم 

بنداے مرتضیٰ علی ہستم 

پیشوائے تمام رندانم 

کہ سگے کوئے شیر یزدانم 

احمد حیات احمد

Thursday, 23 July 2026

حزب البحر نقش

 





دوستو!!

یہ ہے حزب البحر کے عمل کا نچوڑ جس کی میں نے آج سے پہلے کبھی کسی کو ہوا تک نہیں لگنے دی یہ عمل از قبیل اعمال مخفیات میں سے ایک مخفی خزانہ اسرار الصدر میں سے ایک انمول اسرار اور گوہر نایاب ہے بس اتنا سمجھیں لیں کہ خاص سینے کا راز ہے جو ہرگز بھی عام کرنے والی چیز نہیں، استاد سالوں جوتے سیدھے کروانے کے بعد بھی مشکل سے ہی اس قسم کے اعمال بتاتے ہیں مگر میرے پیش نظر مخلوق خدا کی بھلائی ہے محض اسی چیز کو نگاہ میں رکھتے ہوئے میں یہ عمل دے رہا ہوں یہ عمل صرف عمل نہیں بلکہ یہ

سہ مثلث انوارات و برکات کا منبع و مخزن ہیں اگر کوئی عاقل دانا و بینا گہری نگاہ سے ان کے اسرار کو پاگیا تو سمجھو وہ ہر طرح کے عمل سے بے نیاز ہوگیا، لفظ بھی بہت ہیں عمل کے متعلق مشاہدے بھی اور تعریف بھی مگر آپ خود کریں اور خود دیکھیں کیا ہے یہ 

🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁🍁

دوستو!!

حزب البحر کا عمل مکمل کرنے کے بعد آپ صرف شوگر میں ہی نہیں بلکہ ہر حاجت میں اور ہر بیماری میں چاہے وہ جسمانی ہو یا روحانی چاہے جادو ٹونہ سحر بندش وغیرہ ہی کیوں نا ہو آپ ان سب مسائل میں ان نقوش کو استعمال کرسکتے ہیں استعمال کا طریقہ نہایت آسان ہے تین نقش ہیں یہ مثلث آتشی چال سے بنائے گئے ہیں آپ نے شمس یا مشتری کی ساعت میں تین نقش ترتیب سے بنانے ہیں بنانے کے بعد تین مرتبہ دعائے حزب البحر اول آخر درود پاک 3.3 مرتبہ کے ساتھ پڑھ کر ان پر دم کردینا ہے بس اب ان کو طریقے کے مطابق استعمال میں لائیں ہر نقش کے اوپر اس کے متعلق لکھا ہوا ہے کہ کس طرح سے استعمال کرنا ہے گلے والا موم جامہ کرکے مریض کے گلے میں ڈال دیں پینے والا پانی میں ڈال کر پینے کیلئے دیں اور تیل میں ڈالنے والا تیل میں ڈال کر زخموں پر لگوائیں متاثرہ مقام کی مالش کروائیں 

نقش بنانے کا طریقہ بھی مختصر سمجھا دیتا ہوں 

سب سے پہلے بسم اللہ لکھیں پھر نقش کے خانے بنائیں اور آتشی چال کے مطابق سب سے پہلے نقش میں اعداد پر کریں اعداد پر کرنے کے بعد پھر اسی چال کے مطابق  اسمائے الٰہی جس طرح باموکل لکھے ہوئے ہیں ہر خانے میں لکھتے جائیں اس کو مکمل کرنے کے بعد اب جو عزیمت نقش میں لکھی ہوئی ہے وہ لکھنی ہے،

یامانع یادافع یا قاطع سے شروع کرکے مکمل عزیمت نقش کے اندر ان اللہ علی کل شئ قدیر تک اور پھر ساتھ ہی نیچے بھی " بحق آدم و حوا ولوط و داؤد العجل" تک مکمل بس جی نقش ہوگیا پورا اسی ترتیب سے آپ نے تینوں نقش لکھنے ہیں مگر یہ ذہن میں رکھیں کہ ہر نقش میں موکلات اسماء الہی اور عزیمت کے الفاظ الگ الگ ہیں لہذا دھیان سے اور غور کرکے لکھیں

مثلث کی آتشی چال بھی ساتھ لگا رہا ہوں توجہ سے دیکھ کر اور سمجھ کر عمل کریں نقش عرق گلاب اور زعفران کی روشنائی سے بنائیں جس بات کی سمجھ نا آئے پوچھ سکتے ہیں 

دعاؤں میں یاد رکھیں

حیدریم قلندرم مستم 

بنداے مرتضیٰ علی ہستم 

پیشوائے تمام رندانم 

کہ سگے کوئے شیر یزدانم 

ا


Sunday, 19 July 2026

اللہ الصمد کا وضیفہ

 


قرآن کریم۔شفا۔ہے

 قرآن کریم  دل کو سکون کیوں دیتا ہے؟


"شفاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ" 


(سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا) کے پیچھے کیا راز ہے؟


آپ کی زندگی کے کسی نہ کسی لمحے میں—شاید کسی تنگی، شدید بے چینی، یا گہرے دکھ کے وقت—آپ نے قرآنِ کریم کھولا ہوگا۔


یا کوئی آیت سنی ہوگی۔


اور آپ نہیں جانتے کہ کیسے... لیکن آپ نے کچھ محسوس کیا۔


یہ محض "موڈ کا بہتر ہونا" نہیں تھا۔


بلکہ یہ اس سے کہیں زیادہ گہرا احساس تھا۔


ایسا لگا جیسے کوئی بھاری بوجھ آپ کے سینے سے ہٹ گیا ہو۔


جیسے حلق میں پھنسی ہوئی کوئی گرہ کھل گئی ہو۔


ایک ایسی بے ساختہ اور ناقابلِ تشریح سکنیت اور اطمینان... حالانکہ آپ کا مسئلہ اب بھی اپنی جگہ موجود تھا۔


شاید آپ کی آنکھیں نم ہو گئی ہوں، آپ نے ایک گہرا سانس لیا ہو، اور بے اختیار کہا ہو: "سبحان اللہ۔"


لیکن سوال یہ ہے کہ: وہاں کیا ہوا تھا؟


کیسے کچھ الفاظ—صرف الفاظ—آپ کے سینے پر یہ اثر ڈال سکتے ہیں؟


کیا یہ محض ایک "نفساتی اثر" ہے؟


یا قرآن میں کچھ ایسا ہے جو بالکل مختلف اور منفرد ہے؟


اللہ فرماتا ہے: قرآن شفا ہے

اس سے پہلے کہ ہم سائنس اور تحقیق کی بات کریں، آئیے دیکھتے ہیں کہ اللہ نے اپنی کتاب کے بارے میں کیا فرمایا ہے:


"يَا أَيُّهَا النَّاسُ قَدْ جَاءَتْكُم مَّوْعِظَةٌ مِّن رَّبِّكُمْ وَشِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ"


 [یونس: 57]


(اے لوگو! تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک نصیحت آچکی ہے اور وہ سینوں کی بیماریوں کے لیے شفا ہے)


"شِفَاءٌ لِّمَا فِي الصُّدُورِ"


یہاں "دل بہلانے" یا "عارضی تسلی" کی بات نہیں کی گئی۔ بلکہ شفا کہا گیا ہے۔


اور شفا کا مطلب ہے: بیماری کا خاتمہ، خرابی کی اصلاح، اور صحت کی بحالی۔


ایک اور آیت میں ارشاد ہے:


"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ" 


[الإسراء: 82]


(اور ہم قرآن میں سے ایسی چیزیں نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہیں)


اور ایک تیسری جگہ فرمایا:


"قُلْ هُوَ لِلَّذِينَ آمَنُوا هُدًى وَشِفَاءٌ"


 [فصلت: 44]


(آپ کہہ دیجیے کہ یہ (قرآن) ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور شفا ہے)


اللہ نے یہ نہیں فرمایا کہ "قرآن ایک خوبصورت کلام ہے۔"


یہ بھی نہیں فرمایا کہ "قرآن ایک مفید نصیحت ہے۔"


بلکہ فرمایا: شفا ہے۔


اور شفا کے لیے کسی بیماری کا ہونا ضروری ہے۔ تو وہ کون سی بیماری ہے جو سینوں میں ہوتی ہے؟


قرآن کی رو سے "صدر" (سینہ) سے مراد صرف پسلیوں کا پنجر نہیں ہے۔


سینہ دل کا مقام ہے۔ اور دل قرآن میں احساس، ادراک، اور ارادے کا مرکز ہے۔


اور جو بیماریاں "سینوں میں" ہوتی ہیں، وہ جسمانی بیماریاں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ روحی اور نفسیاتی بیماریاں ہیں:


شک و شبہ – "فِي قُلُوبِهِم مَّرَضٌ" [ان کے دلوں میں بیماری ہے]


بے چینی  مسلسل ذہنی تناؤ۔


دکھ اور غم – گہرا نفسیاتی درد۔


خوف – مستقبل کا ڈر۔


کینہ اور حسد – اندرونی زہر۔


خواہشات کی غلامی – نفسانی رغبتوں کے قابو میں ہونا۔


غفلت – ایسا دل جو اللہ کو محسوس نہ کر سکے۔


یہ سب بیماریاں ہیں... اور قرآن ان سب کی شفا ہے۔ مگر کیسے؟


 1...پہلا درجہ: 


صوتی اثر (آواز کے وہ ارتعاشات جو دماغ کو پرسکون کرتے ہیں)


آئیے سب سے آسان درجے سے شروع کرتے ہیں: یعنی آواز۔


حتیٰ کہ اگر آپ آیات کا مطلب نہ بھی سمجھ رہے ہوں—


خواہ آپ عربی نہ بھی جانتے ہوں—صرف قرآن کو سننا بھی اثر دکھاتا ہے۔ کیوں؟


 2...تجوید: صوتی لہروں  کا علم:


قرآن کا ایک انتہائی دقیق صوتی نظام ہے جسے ہم "تجوید" کہتے ہیں۔


مَد کے احکام (آواز کو کھینچنا)


غُنّہ کے احکام (ناک سے آواز نکالنا)


قلقلہ کے احکام (آواز میں جنبش پیدا کرنا)


حروف کے دقیق مخارج


یہ سب محض آرائش نہیں ہے، یہ ایک علم ہے۔


ملائیشین اسٹڈی (2013): قرآن دماغی لہروں کو بدل دیتا ہے


ملائیشیا کی انٹرنیشنل اسلامک یونیورسٹی کے محققین نے EEG (دماغی لہروں کا گراف) کے ذریعے قرآن سننے کے دوران دماغی سرگرمیوں کو ناپا۔


نتیجہ کیا نکلا؟


قرآن سننے سے دماغ میں الفا لہریں (Alpha Waves) بڑھ جاتی ہیں۔


الفا لہریں (8-13 Hz) وہ لہریں ہیں جن کا تعلق درج ذیل چیزوں سے ہے:۔۔


گہرا سکون اور استرخاء 


اضطراب اور بے چینی میں کمی


توجہ اور ارتکاز میں بہتری


اندرونی امن کا احساس


اس کے برعکس، جب لوگ عام موسیقی یا عام گفتگو سنتے ہیں، تو دماغی لہریں بیٹا (Beta - تناؤ) اور تھیٹا (Theta - ذہنی خلفشار) کے درمیان الجھی ہوتی ہیں۔


 لیکن قرآن دماغ کو بیدار حالت میں گہرے سکون  میں لے جاتا ہے۔


سعودی اسٹڈی (2016):


 قرآن کارٹیسول (Cortisol) کو کم کرتا ہے


کارٹیسول تناؤ اور اسٹرِیس کا ہارمون ہے۔


جب آپ پریشان، خوفزدہ یا ذہنی دباؤ کا شکار ہوتے ہیں، تو آپ کے خون میں کارٹیسول کی سطح بڑھ جاتی ہے۔ 


اور مسلسل کارٹیسول کا ہائی رہنا ان کا سبب بنتا ہے:


بلڈ پریشر کا بڑھنا


قوتِ مدافعت کی کمزوری


ڈپریشن


دل کے امراض


کنگ سعود یونیورسٹی کے محققین نے مریضوں کے تھوک (Saliva) میں کارٹیسول کی سطح کو ناپا،


 قرآن (سورہ رحمٰن) سننے


 سے پہلے اور بعد میں۔


نتیجہ کیا رہا؟


کارٹیسول کی سطح میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔


صرف 10 منٹ قرآن سننے سے تناؤ کا ہارمون جسمانی طور پر کم ہو گیا۔


 یہ کوئی محض "نفسیاتی خیال" نہیں تھا،


 بلکہ ایک حقیقی حیاتیاتی اور کیمیائی تبدیلی تھی۔


قرآن کا صوتی ردم  زیادہ متوازن اور باقاعدہ ہے)۔


اور ایک تیسری چیز جسے وہ ناپ نہیں سکے... انہوں نے اسے "روحانی جہت" کا نام دیا۔


   2....دوسرا درجہ:


 معنوی اثر (وہ الفاظ جو شفا دیتے ہیں)


صرف صوتی اثر ہی سب کچھ نہیں ہے، الفاظ کے معنی اس سے بھی زیادہ طاقت رکھتے ہیں۔


الفاظ جسم پر کیسے اثر انداز ہوتے ہیں؟ 


یہ کوئی جادو نہیں، سائنس ہے۔


آپ کا دماغ "حقیقی خطرے" اور "خیالی خطرے" میں فرق نہیں کر سکتا۔


اگر آپ یہ جملہ پڑھیں: 


"ایک دن آئے گا جب تم اکیلے مر جاؤ گے اور تمہیں کوئی یاد نہیں رکھے گا"—


تو آپ کا جسم فوری ردعمل دے گا:


دل کی دھڑکن تیز ہو جائے گی۔


کارٹیسول خارج ہونا شروع ہو جائے گا۔


پٹھے تن جائیں گے۔


صرف چند الفاظ نے جسمانی تبدیلی پیدا کر دی۔


اس کے برعکس، اگر آپ پڑھیں: "تم سے محبت کی جاتی ہے، تم اہم ہو، تم امان میں ہو"—


تو آپ کا جسم پرسکون ہو جاتا ہے۔


اب ذرا اللہ  تعالیٰ کے الفاظ کی طاقت کا تصور کریں۔


آیاتِ سکینہ:


 دل کو تھپکی دینے والے الفاظ

قرآن میں کچھ ایسی آیات ہیں جنہیں پڑھتے یا سنتے ہی دل کو فوری سکون ملتا ہے۔ مثال کے طور پر:


"أَلَا بِذِكْرِ اللَّهِ تَطْمَئِنُّ الْقُلُوبُ" 


[الرعد: 28]


(سنو! اللہ کے ذکر ہی سے دلوں کو اطمینان نصیب ہوتا ہے)


یہ محض ایک معلومات نہیں ہے، بلکہ یہ براہِ راست دل کو اطمینان دینے والا مژدہ ہے۔


 جب آپ اسے پڑھتے ہیں، تو آپ کے دماغ کو پیغام ملتا ہے: "اللہ کے ذکر سے دل پرسکون ہوتا ہے"۔


 اور اگر آپ کا ایمان ہے کہ یہ اللہ کا کلام ہے، تو آپ کا دل فوراً تسلیم کر لیتا ہے۔


یا جیسے فرمایا:


"لَا تَحْزَنْ إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا"

۔

 [التوبة: 40]


(تو غم نہ کر، یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے)


"لَا تَحْزَنْ" (غم نہ کر) – دل کو براہِ راست ایک حکم ہے۔


"إِنَّ اللَّهَ مَعَنَا" (یقیناً اللہ ہمارے ساتھ ہے) –


 اللہ کی معیت اور ساتھ ہونے کی تاکید ہے۔


جب آپ اسے دکھ کے لمحے میں پڑھتے ہیں، تو آپ کے سینے سے کچھ ہلکا ہو جاتا ہے۔ کیوں؟ 


کیونکہ غم کی بنیاد تنہائی، بے بسی، اور مستقبل کے خوف پر ہوتی ہے۔


 اور یہ آیت کہتی ہے: آپ اکیلے نہیں ہیں، اللہ آپ کے ساتھ ہے۔


 اور اللہ تعالی   نعوذباللہ محض ایک تماشائی نہیں ہے،


 اللہ کا ساتھ ہونے کا مطلب ہے کہ وہ آپ کا حامی و ناصر ہے،


 آپ کی حفاظت کرنے والا اور آپ کا نگران ہے۔


    3....تیسرا درجہ: 


عقلی اثر (افکار کی نئی ترتیب)


کبھی کبھی سینوں کی بیماری محض ایک "احساس" نہیں ہوتی،


 بلکہ وہ سوچنے کا ایک غلط انداز ہوتی ہے۔


مثال: مستقبل کا خوف اور بے چینی


بے چینی (Anxiety) بنیادی طور پر اس چیز کا خوف ہے


 جو ابھی ہوئی ہی نہیں۔


 آپ برے منظرنامے  کا تصور کرتے ہیں


 اور آپ کا جسم ایسے ردعمل دیتا ہے جیسے وہ حقیقت میں ہو رہے ہوں۔


قرآن اس کا علاج ایک واضح منطق سے کرتا ہے:


"وَمَن يَتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ ۚ إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ"


 [الطلاق: 3]


(اور جو اللہ پر بھروسہ کرے تو اللہ اسے کافی ہے۔ یقیناً اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے)


"فَهُوَ حَسْبُهُ" – اللہ اسے کافی ہے۔ اسے کسی اور چیز کی ضرورت ہی نہیں۔


"إِنَّ اللَّهَ بَالِغُ أَمْرِهِ" – اللہ اپنا فیصلہ نافذ کر کے رہے گا،


 خواہ آپ پریشان ہوں یا نہ ہوں۔ آپ کی پریشانی کچھ بدل نہیں سکتی، 


لیکن آپ کا توکل آپ کو سکون ضرور دے گا۔ یہ ایک عقلی منطق بھی ہے اور قلبی اطمینان بھی۔


مثال: ماضی کے نقصانات پر کڑھنا


ماضی پر افسوس کرنا


—ندامت، جرم کا احساس، اور "اگر میں ایسا کرتا تو ویسا ہو جاتا"


 جیسی سوچیں—روح کو مار دیتی ہیں۔ قرآن اس کا علاج یوں کرتا ہے:


"لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ" 


[الحديد: 23]


(تاکہ تم اس چیز پر غمگین نہ ہو جو تمہارے ہاتھ سے نکل گئی اور نہ اس پر اتراؤ جو اس نے تمہیں دی ہے)


"لِّكَيْلَا تَأْسَوْا" 


– تاکہ تم غم نہ کرو۔ 


کیوں؟ 


کیونکہ جو گزر گیا... وہ گزر گیا۔ اور جو ہوا، وہ اللہ نے کسی حکمت کے تحت طے کر رکھا تھا۔


"مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي أَنفُسِكُمْ إِلَّا فِي كِتَابٍ مِّن قَبْلِ أَن نَّبْرَأَهَا" 


[الحديد: 22]


(نہ کوئی مصیبت زمین پر آتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر، مگر وہ اس سے پہلے ایک کتاب میں لکھی ہوئی ہے کہ ہم اسے پیدا کریں)


سب کچھ لکھا ہوا ہے، طے شدہ ہے۔ اگر آپ کچھ اور بھی کرتے، تب بھی یہ بدلنے والا نہیں تھا۔ یہ سوچ انسان کو ماضی کے قید خانے سے عقلی طور پر آزاد کر دیتی ہے۔


مثال: موت کا خوف

موت کا خوف انسان کو مفلوج کر دیتا ہے۔ 


قرآن اس کا علاج یوں فرماتا ہے:


"قُل لَّن يُصِيبَنَا إِلَّا مَا كَتَبَ اللَّهُ لَنَا" 


[التوبة: 51]


(آپ کہہ دیجیے کہ ہمیں کوئی مصیبت نہیں پہنچ سکتی سوائے اس کے جو اللہ نے ہمارے لیے لکھ دی ہے)


آپ اپنی موت کے وقت سے پہلے نہیں مر سکتے اور نہ ہی اس کے بعد ایک پل جی سکتے ہیں۔


"فَإِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ لَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً ۖ وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ" 


[الأعراف: 34]


(پس جب ان کا وقت آجاتا ہے تو وہ نہ ایک گھڑی پیچھے ہو سکتے ہیں اور نہ آگے بڑھ سکتے ہیں)


تو پھر یہ خوف کیسا؟ خوف موت کو ٹال نہیں سکتا، لیکن ایمان آپ کو موت آنے تک پرسکون زندگی ضرور دے سکتا ہے۔


   4....چوتھا درجہ: 


روحانی اثر (اصل سرچشمے سے تعلق)


مگر یہ سب کچھ—آواز، معنی، منطق—ہی سب کچھ نہیں ہے۔ اس کے پیچھے ایک اور گہرا راز ہے۔


قرآن صرف اللہ کے بارے میں نہیں ہے، قرآن اللہ کا کلام ہے

جب آپ قرآن پڑھتے ہیں، تو آپ صرف اللہ کے بارے میں نہیں پڑھ رہے ہوتے، بلکہ آپ براہِ راست اللہ کا کلام پڑھ رہے ہوتے ہیں۔


تصور کریں کہ آپ کو کسی ایسے شخص کا خط ملے جس سے آپ شدید محبت کرتے ہوں اور وہ سالوں سے دور ہو۔ صرف اس کے الفاظ پڑھنے سے آپ کو اس کی موجودگی کا احساس ہونے لگتا ہے۔ آپ اس کا قرب، اس کی شفقت اور محبت محسوس کرتے ہیں۔ 


(وَلِلَّهِ الْمَثَلُ الْأَعْلَىٰ) 


اور اللہ کی شان تو سب سے بلند ہے۔


اب ذرا سوچیں کہ آپ اپنے خالق کا کلام پڑھ رہے ہیں:


"وَإِذَا سَأَلَكَ عِبَادِي عَنِّي فَإِنِّي قَرِيبٌ"


 [البقرة: 186]


(اور جب میرے بندے آپ سے میرے بارے میں سوال کریں، تو میں یقیناً قریب ہوں)


"فَإِنِّي قَرِيبٌ" (میں قریب ہوں)۔


جب آپ یہ پڑھتے ہیں، تو یہ صرف ایک معلومات نہیں رہتی، یہ قربت کا ایک گہرا احساس بن جاتی ہے۔ اللہ آپ کو براہِ راست بتا رہا ہے کہ: "میں قریب ہوں"۔


"وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ" [ق: 16]


(اور ہم اس کی شاہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں)


اللہ آپ کے اتنے قریب ہے، آپ کی اپنی ذات سے بھی زیادہ۔


روح اپنے خالق کے کلام کو پہچانتی ہے


امام ابن القیم رحمہ اللہ فرماتے ہیں:


"دل میں ایک سختی ہوتی ہے جسے اللہ کے ذکر کے سوا کوئی چیز نرم نہیں کر سکتی۔"


"اور دل میں ایک وحشت (اکیلا پن) ہوتی ہے جسے اللہ کی انسیت کے سوا کوئی چیز دور نہیں کر سکتی۔"


"اور دل میں ایک حزن (غم) ہوتا ہے جسے اللہ کی معرفت کی خوشی کے سوا کوئی چیز ختم نہیں کر سکتی۔"


آپ کی روح—جو آپ کے اندر اللہ کی طرف سے پھونکی گئی ہے—اپنے خالق کے کلام سے واقف ہے۔ جب وہ اسے سنتی ہے، تو فوراً پہچان لیتی ہے۔


بالکل اسی طرح جیسے ایک چھوٹا بچہ، جب اپنی ماں کی آواز سنتا ہے تو فوراً پرسکون ہو جاتا ہے؛ کیونکہ وہ اس آواز کو پہچانتا ہے۔ آپ کی روح بھی اپنے خالق کی آواز کو پہچانتی ہے۔


قرآن کچھ لوگوں پر اثر کیوں نہیں کرتا؟


اب یہاں کوئی کہہ سکتا ہے: "لیکن میں نے بھی تو قرآن پڑھا تھا... مجھے تو کچھ محسوس نہیں ہوا؟"


ایسا کیوں ہوتا ہے؟


 اللہ تعالیٰ نے خود اس کا جواب دیا ہے:


"وَنُنَزِّلُ مِنَ الْقُرْآنِ مَا هُوَ شِفَاءٌ وَرَحْمَةٌ لِّلْمُؤْمِنِينَ ۙ وَلَا يَزِيدُ الظَّالِمِينَ إِلَّا خَسَارًا" 


[الإسراء: 82]


(اور ہم قرآن میں سے وہ چیز نازل کرتے ہیں جو ایمان والوں کے لیے شفا اور رحمت ہے، اور وہ ظالموں کے لیے نقصان کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا)


"لِّلْمُؤْمِنِينَ" (ایمان والوں کے لیے)۔


قرآن ایمان والوں کے لیے شفا ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ اللہ کسی کو شفا سے محروم رکھنا چاہتا ہے، 


بلکہ اس لیے کہ جو شخص انکار کرتا ہے وہ اپنا دل قرآن کے لیے کھولتا ہی نہیں ہے۔


قرآن سے متاثر ہونے کی شرائط:


اس بات پر ایمان کہ یہ اللہ کا کلام ہے:


 اگر آپ قرآن کو ایک "ادبی متن" یا "عربی ورثہ" سمجھ کر پڑھیں گے، تو یہ اثر نہیں کرے گا۔


 کیونکہ آپ اسے اپنے رب کا پیغام سمجھ کر نہیں پڑھ رہے جو اس نے خاص آپ کے لیے بھیجا ہے۔


تدبر، نہ کہ صرف الفاظ کا گزارنا:


"أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا" 


[محمد: 24]


(تو کیا وہ قرآن پر غور و فکر نہیں کرتے یا ان کے دلوں پر تالے لگے ہوئے ہیں؟)


تدبر کا مطلب ہے معنی پر غور کرنا، نہ کہ صرف آنکھوں کو حروف کے اوپر سے گزار دینا۔


کشادہ دل (Open Heart):


"أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا" –


 کچھ دلوں پر تالے ہوتے ہیں۔ تکبر، خواہشات، گناہوں اور غفلت کے تالے۔ اور قرآن کسی بند اور مقفل دل میں داخل نہیں ہوتا۔


شفا کی طلب اور ضرورت کا احساس: جب آپ واقعی کسی تنگی میں ہوتے ہیں—بے چینی، غم یا خوف میں—تو آپ عاجزی سے اپنا دل کھول دیتے ہیں۔ اور جب دل کھلتا ہے، تو قرآن اندر اتر جاتا ہے۔


قرآن کوئی عام کتاب نہیں ہے

قرآن صرف معلومات کا مجموعہ نہیں ہے۔ قرآن ایک قوت اور طاقت ہے۔


"لَوْ أَنزَلْنَا هَٰذَا الْقُرْآنَ عَلَىٰ جَبَلٍ لَّرَأَيْتَهُ خَاشِعًا مُّتَصَدِّعًا مِّنْ خَشْيَةِ اللَّهِ" 


[الحشر: 21]


 

(اگر ہم اس قرآن کو کسی پہاڑ پر نازل کرتے تو تم اسے اللہ کے خوف سے جھکا ہوا اور پاش پاش ہوتا ہوا دیکھتے)


تو پھر ایک انسان کے دل کا کیا معاملہ ہے؟


اگر ایک پہاڑ—اپنی تمام تر مضبوطی اور چٹان ہونے کے باوجود—اللہ کے کلام کے آگے جھک اور پھٹ سکتا ہے، تو آپ کا دل—جو نرم ہے، زندہ ہے، اور محسوس کرنے کے لیے ہی بنایا گیا ہے—وہ تو  سب سے پہلے متاثر ہونے کا حق رکھتا ہے۔


مگر ایک شرط پر:


 کہ وہ دل پہاڑ سے زیادہ سخت نہ ہو چکا ہو۔


اَللّٰھُمَّ اجْعَلَ الْقُرْآنَ رَبِیْعَ قَلْبِیْ وَ نُوْرَ صَدْرِیْ وَ جَلَاءَ حُزْنِیْ وَ ذَھَابَ ھَمِّیْ"


 "اے اللہ! قرآن کو میرے دل کی بہار، میرے سینے کا نور، میرے غموں کا مداوا اور میری پریشانیوں کو دور کرنے کا ذریعہ بنا دے

Sunday, 14 June 2026

مسلمانوں کی نئی ضرورت

 ہاں، میں آر ایس ایس کو سمجھنا چاہتا ہوں، اور صرف میں ہی نہیں بلکہ ہم سب کو آر ایس ایس کا گہرائی سے مطالعہ کرنا چاہیے۔ یہ اس لیے نہیں کہ آر ایس ایس ہمارا رول ماڈل ہے یا ہم اس کے نظریات سے اتفاق کرتے ہیں، بلکہ اس لیے کہ یہ ایک ایسی منظم مشینری کی مثال ہے جس نے اپنے مقصد کے حصول کے لیے غیر معمولی استقامت، قربانی، مسلسل جدوجہد، تنظیمی نظم و ضبط اور اصولوں کی پابندی کا مظاہرہ کیا ہے۔


ممکن ہے کہ میری یہ بات بعض احباب کو ناگوار گزرے، اور بظاہر ایک مسلمان قلمکار کی زبان سے ایسی بات عجیب بھی محسوس ہو۔ آخر اسلام جیسا مکمل ضابطۂ حیات رکھنے والی امت کو آر ایس ایس سے کیا سیکھنا ہے؟ یہ بات سو فیصد درست ہے کہ اسلام ہمیں دنیا و آخرت میں کامیابی کے تمام اصول اور اسباب سکھاتا ہے، لیکن اصل سوال یہ ہے کہ ہم نے ان اصولوں کو اپنی عملی زندگی میں کس حد تک نافذ کیا ہے؟


آج ہماری صورتحال یہ ہے کہ اسلام پسندی اکثر چند عبادات تک محدود ہو کر رہ گئی ہے۔ ہم جمعہ اور عیدین کی نمازیں ادا کر لیتے ہیں، ملی فلاح کے نام پر زکاۃ کے پیسوں سے مدارس تعمیر کر لیتے ہیں، اور اصلاحِ معاشرہ کے عنوان سے چند جلسے منعقد کر دیتے ہیں، لیکن اجتماعی تعمیر، منظم منصوبہ بندی اور طویل مدتی جدوجہد کے میدان میں ہماری کمزوریاں واضح نظر آتی ہیں۔


دنیا داری کے نام پر ہم کاروبار بھی کرتے ہیں، لیکن دیانت داری، اجتماعی ذمہ داری اور وسائل کے درست استعمال کے معیار پر گفتگو کرنا شاید ہمارے لیے آسان نہیں۔ ہمارے لوگ کسی نہ کسی طرح دولت تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر اس دولت کو قوم، معاشرے اور آنے والی نسلوں کی تعمیر میں کیسے استعمال کرنا ہے، یہ شعور ہم میں بہت کم دکھائی دیتا ہے۔


اس کے برعکس آر ایس ایس یا اس سے وابستہ افراد چیریٹی کے نام پر کسی کو ایک پھوٹی کوڑی بھی نہیں دیتے، لیکن وہ اپنے وسائل، چندے اور افرادی قوت کو اپنے لانگ ٹائم مقاصد کے لیے کس طرح استعمال کرتے ہیں، اس کا نتیجہ آج سب کے سامنے ہے۔


میں پوری وضاحت کے ساتھ یہ بھی تسلیم کرتا ہوں کہ آر ایس ایس کی آئیڈیالوجی بھارت سمیت پوری دنیا کے لیے خطرناک ثابت ہو سکتی ہے، کیونکہ اس کی بنیاد ایک ایسے تصور پر قائم ہے جو تنوع، مساوات اور حقیقی جمہوری اقدار سے متصادم ہے۔ اس کے نظریات سے شدید اختلاف اپنی جگہ، لیکن کسی تنظیم کے نظریے سے اختلاف اس بات کا جواز نہیں بنتا کہ اس کی تنظیمی صلاحیتوں، کارکن سازی، منصوبہ بندی اور طویل المدتی حکمت عملی کا مطالعہ بھی ترک کر دیا جائے۔


تاریخ کا اصول ہے کہ کامیاب قومیں صرف اپنے دوستوں سے نہیں سیکھتیں بلکہ اپنے مخالفین کا بھی گہرائی سے مطالعہ کرتی ہیں۔ وہ یہ جاننے کی کوشش کرتی ہیں کہ آخر وہ کون سی عادات، طریقۂ کار اور تنظیمی خوبیاں ہیں جنہوں نے کسی نظریے کو معاشرے میں جڑیں مضبوط کرنے کا موقع دیا۔


آر ایس ایس کے کارکنوں نے اپنے مشن کو ذاتی مفادات، آسائشوں اور کئی مواقع پر گھر، خاندان اور نجی زندگی پر بھی ترجیح دی۔ یہی وجہ ہے کہ تقریباً ایک صدی کے عرصے میں یہ ایک محدود حلقے سے نکل کر ایک وسیع اور اثر انگیز تنظیمی ڈھانچے میں تبدیل ہو گئی۔


اگر یہ سمجھنا ہو کہ منتشر افراد کو اجتماعی قوت میں کیسے بدلا جاتا ہے، ایک نظریے کو نسلوں تک کیسے منتقل کیا جاتا ہے اور کارکنوں میں مستقل مزاجی کیسے پیدا کی جاتی ہے، تو آر ایس ایس یقیناً ایک اہم مطالعے کا موضوع ہے۔


آج اگر ہم اپنی حالت کا غیر جانبداری سے جائزہ لیں تو محسوس ہوگا کہ ہمارے پاس اسلام جیسا کامل نظام موجود ہے، لیکن ہم نے اسے انفرادی عبادات تک محدود کر دیا ہے۔ ہم نے تنظیم کو فرقوں میں تقسیم کر دیا، اجتماعی مفاد کو شخصیات کی نذر کر دیا اور طویل المدت منصوبہ بندی کی جگہ وقتی جذبات کو اپنا شعار بنا لیا۔ نتیجہ یہ ہے کہ وسائل ہونے کے باوجود ہم مؤثر قوت نہیں بن پا رہے، جبکہ ہمارے مخالفین منظم حکمت عملی کے ذریعے اپنے مقاصد کے قریب پہنچتے جا رہے ہیں۔


ضرورت اس بات کی نہیں کہ ہم آر ایس ایس بن جائیں یا اس کے نظریات کو اختیار کریں، بلکہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم اسلام کے ان اصولوں کو دوبارہ زندہ کریں جنہوں نے کبھی منتشر قبائل کو ایک امت میں بدل دیا تھا۔ دیانت، نظم و ضبط، ایثار، اجتماعی شعور، مقصد سے وابستگی اور نسلوں پر محیط منصوبہ بندی، یہ سب اسلام نے ہمیں صدیوں پہلے سکھا دیا تھا۔ مسئلہ یہ نہیں کہ ہمارے پاس رہنمائی نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ ہم نے اس رہنمائی کو زندگی کے نظام میں تبدیل کرنا چھوڑ دیا ہے۔


جس دن ہم نے اسلام کو صرف عقیدت کا موضوع بنانے کے بجائے ایک زندہ اجتماعی نظام کے طور پر اختیار کر لیا، اس دن ہمیں نہ آر ایس ایس سے سبق لینے کی ضرورت ہوگی اور نہ کسی دوسری تحریک سے۔ لیکن جب تک ہم اپنی کمزوریوں کا دیانت داری سے اعتراف نہیں کرتے، تب تک دوسروں کی کامیابیوں پر صرف تنقید کرتے رہنا ہماری حالت کو تبدیل نہیں کر سکے گا۔


اس لیے آر ایس ایس کا مطالعہ دراصل آر ایس ایس کی تعریف نہیں، بلکہ اپنی کمزوریوں کو سمجھنے اور اپنی کھوئی ہوئی اجتماعی قوت کو دوبارہ حاصل کرنے کی ایک سنجیدہ کوشش ہے۔



Saturday, 9 May 2026

نسخے جات حسن وجمال

Nuskhe jaat

 

Sunday, 22 March 2026

فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں

 تین فطری قوانین جو کڑوے لیکن سچے ہیں۔ 


1--پہلا قانون فطرت:


اگر کھیت میں" دانہ" نہ ڈالا جاۓ تو قدرت اسے "گھاس پھوس" سے بھر دیتی ہے.

اسی طرح اگر" دماغ" کو" اچھی فکروں" سے نہ بھرا جاۓ تو "کج فکری" اسے اپنا مسکن بنا لیتی ہے۔

یعنی اس میں صرف "الٹے سیدھے "خیالات آتے ہیں اور وہ "شیطان کا گھر" بن جاتا ہے۔


2--دوسرا قانون فطرت:


جس کے پاس "جو کچھ" ہوتا ہے وہ" وہی کچھ" بانٹتا ہے۔

خوش مزاج انسان "خوشیاں "بانٹتا ہے۔

غمزدہ انسان "غم" بانٹتا ہے۔

عالم "علم" بانٹتا ہے۔

پرامن انسان "امن و سکون" بانٹتا ہے۔

دیندار انسان "دین" بانٹتا ہے۔

خوف زدہ انسان "خوف" بانٹتا ہے۔

مثبت اور تعمیری انسان موٹیویشن دیتا ہے 

اسی طرح سیاہ دل و متعصب انسان "تعصب و نفرت" بانٹتا ہے


3--تیسرا قانون فطرت: 


آپ کو زندگی میں جو کچھ بھی حاصل ہو اسے "ہضم" کرنا سیکھیں، اس لئے کہ


کھانا ہضم نہ ہونے پر" بیماریاں" پیدا ہوتی ہیں۔

مال وثروت ہضم نہ ہونے کی صورت میں" ریاکاری" بڑھتی ہے۔بات ہضم نہ ہونے پر "چغلی" اور "غیبت" بڑھتی ہے۔

تعریف ہضم نہ ہونے کی صورت میں "غرور" میں اضافہ ہوتا ہے۔

مذمت کے ہضم نہ ہونے کی وجہ سے "دشمنی" بڑھتی ہے۔

غم ہضم نہ ہونے کی صورت میں "مایوسی" بڑھتی ہے۔

اقتدار اور طاقت ہضم نہ ہونے کی صورت میں معاشرے میں" ظلم و بےراہروی" میں اضافہ ہوتا ہے۔


اپنی زندگی کو آسان بنائیں اور ایک" با مقصد" اور "با اخلاق" زندگی گزاریں، لوگوں کے لئے آسانیاں پیدا کریں


۔۔اللہ پاک ہم سب کواچھی زندگی گزارنےکی توفیق عطا فرمائیں

EID

 لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ لَبِسَ الْجَدِیْدِ

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ خَافَ بِالْوَعِیْدِ

عید انکی نہیں جنہوں نے عمده لباس زیب تن کر لیا بلکه عید تو انکی ہے جو الله کی وعید اور پکڑ سے ڈر گئے.


لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَبَخَّرَ بِالْعُوْدِ

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَابَ وَلَا یَعُوْدُ

عید انکی نہیں جنہوں نے آج عمده خوشبوؤں کا استعمال کیا بلکه عید تو انکی ہے جنہوں نے اپنے گناہوں کی توبه کی اور پهر اس پر قائم رہے.


لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ نَصَبَ الْقُدُوْرَ

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ سَعَدَ بِالْمَقْدُوْرِ

عید انکی نہیں جنہوں نے عمده کهانوں کی ڈشیں پکائیں بلکه عید تو انکی ہے جنہوں نے حتی الامکان مقدور کے ساتھ سعادت حاصل کی اور نیک بننے کی کوشش کی.


لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَیَّنَ بِزِیْنَةِ الدُّنْیَا 

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَزَوَّدَ بِزَادِ التَّقْویٰ

عید انکی نہیں جنہوں نے دنیاوی زیب و زینت اختیار کی بلکه عید تو انکی ہے جنہوں نے تقویٰ اور پرهیزگاری کو اختیار کیا اور اسے اپنا توشه بنایا.


لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ رَکِبَ الْمَطَایَا

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ تَرَکَ الْخَطَایَا

عید انکی نہیں جنہوں نے عمده عمده سواریوں ، گاڑیوں پر سواری کی بلکه عید تو انکی ہے جنہوں نے گناہوں کو چهوڑ دیا.


لَیْسَ الْعِیْدُ لِمَنْ بَسَطَ الْبَسَاطَ

اِنَّمَا الْعِیْدُ لِمَنْ جَاوَزَ الصِّرَاطَ

عید انکی نہیں جنہوں نے اعلیٰ درجه فرش سے اپنے مکانوں کو آراسته کیا بلکه عید تو انکی ہے جو پل صراط سے گزر گئے.


Thursday, 12 March 2026

عطیہ فیضی

 ایک ہی عورت بیک وقت مولانا شبلی نعمانی اور علامہ اقبال کی محبوبہ تھی.... عطیہ فیضی.... وہ ان میں سے کسی کے بھی ہاتھ نہ آئی. دونوں کے ساتھ ٹائم پاس کرتی رہی اور جب فیصلہ کرنے کا وقت آیا تو  ایک یہودی نژاد (بعد میں مسلمان ہوجانے کا بھی ذکر ملتا ہے) کے ساتھ شادی کر کے بیرون ملک جا بسی..شبلی اس کے غم میں نڈھال ہو گئے اور اقبال اس کی بے وفائی پر شکوہ کناں رہے..شبلی محقق تھے اور اقبال مفکر تھے... اس کے باوجود وہ دونوں ہی ایک عورت کو اپنا نہ بنا سکے.


 عطیہ فیضی کو محبت کرنے والا لائف پارٹنر مطلوب ہی نہیں تھا بلکہ اس کو جدید اور پر آسائش لائف سٹائل کی چاہت تھی. اس سے معلوم ہوا کہ خالی جیب والے مفکرین اور محققین عموما محبت کی بازی ہار جاتے ہیں اور یہی ہار ان کے علمی اور فکری عروج کی مہمیز بن جاتی ہے.محبت کی اس ناکامی کے سبب نہ تو علمی حلقوں میں شبلی کا قد چھوٹا ہوا اور نہ ہی اقبال کے نام پر کوئی داغ لگا. تاریخ ایسی عورتوں کے نام یاد رکھتی ہے، کردار یاد رکھتی ہے.

Tuesday, 24 February 2026

آل دعا قرآ۔نی ALL DUAE QURANI

 *قران کریم میں موجود تمام دعاؤں کو جمع کر دیا ہےان سب دعاؤں کو یاد کریں*

رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

(2) رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

(3) رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

(4) رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ 

(5) رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

(6) رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ

(7) رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

(8) رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ

(9) رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ 

(10) رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

(11)رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

(12) رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

(13) رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ

(14) رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

(15) رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

(16) رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

(17) رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

(18) رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

(19) رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

(20) رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

(21) رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

(22) رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ

(23) رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

(24) رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

(25) رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

(26) رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا 

(27) رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

✅ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

✅ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ

✅ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا

✅ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

✅ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.

✅ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

✅ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ

✅ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

✅ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ


✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ


✅ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

✅ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

✅ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا

✅ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

✅ اللَّهُمَّ رَبَّنَا... ارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ 

✅ رَبَّنَا تَقَبَّلْ مِنَّا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ، وَتُبْ عَلَيْنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ التَّوَّابُ الرَّحِيمُ

✅ رَبَّنَا آتِنَا فِي الدُّنْيَا حَسَنَةً وَفِي الْآخِرَةِ حَسَنَةً وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تُؤَاخِذْنَا إِنْ نَسِينَا أَوْ أَخْطَأْنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تَحْمِلْ عَلَيْنَا إِصْرًا كَمَا حَمَلْتَهُ عَلَى الَّذِينَ مِنْ قَبْلِنَا ۚ رَبَّنَا وَلَا تُحَمِّلْنَا مَا لَا طَاقَةَ لَنَا بِهِ ۖ وَاعْفُ عَنَّا وَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا ۚ أَنْتَ مَوْلَانَا فَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ 

✅ رَبَّنَا لَا تُزِغْ قُلُوبَنَا بَعْدَ إِذْ هَدَيْتَنَا وَهَبْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْوَهَّابُ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ جَامِعُ النَّاسِ لِيَوْمٍ لَا رَيْبَ فِيهِ ۚ إِنَّ اللَّهَ لَا يُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبِّ هَبْ لِي مِنْ لَدُنْكَ ذُرِّيَّةً طَيِّبَةً ۖ إِنَّكَ سَمِيعُ الدُّعَاءِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا بِمَا أَنْزَلْتَ وَاتَّبَعْنَا الرَّسُولَ فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ 

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَإِسْرَافَنَا فِي أَمْرِنَا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅رَبَّنَا مَا خَلَقْتَ هَٰذَا بَاطِلًا سُبْحَانَكَ فَقِنَا عَذَابَ النَّارِ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ مَنْ تُدْخِلِ النَّارَ فَقَدْ أَخْزَيْتَهُ ۖ وَمَا لِلظَّالِمِينَ مِنْ أَنْصَارٍ

✅ رَبَّنَا إِنَّنَا سَمِعْنَا مُنَادِيًا يُنَادِي لِلْإِيمَانِ أَنْ آمِنُوا بِرَبِّكُمْ فَآمَنَّا ۚ رَبَّنَا فَاغْفِرْ لَنَا ذُنُوبَنَا وَكَفِّرْ عَنَّا سَيِّئَاتِنَا وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَارِ

✅ رَبَّنَا وَآتِنَا مَا وَعَدْتَنَا عَلَىٰ رُسُلِكَ وَلَا تُخْزِنَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ ۗ إِنَّكَ لَا تُخْلِفُ الْمِيعَادَ

✅ رَبَّنَا أَخْرِجْنَا مِنْ هَٰذِهِ الْقَرْيَةِ الظَّالِمِ أَهْلُهَا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ وَلِيًّا وَاجْعَلْ لَنَا مِنْ لَدُنْكَ نَصِيرًا

✅ رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ

✅ رَبَّنَا افْتَحْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمِنَا بِالْحَقِّ وَأَنْتَ خَيْرُ الْفَاتِحِينَ

✅ رَبَّنَا أَفْرِغْ عَلَيْنَا صَبْرًا وَثَبِّتْ أَقْدَامَنَا وَانْصُرْنَا عَلَى الْقَوْمِ الْكَافِرِينَ

✅ رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبِّ إِنِّي أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَسْأَلَكَ مَا لَيْسَ لِي بِهِ عِلْمٌ ۖ وَإِلَّا تَغْفِرْ لِي وَتَرْحَمْنِي أَكُنْ مِنَ الْخَاسِرِينَ

✅ رَبِّ أَنْتَ وَلِيِّي فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ ۖ تَوَفَّنِي مُسْلِمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ

✅ رَبَّنَا إِنَّكَ تَعْلَمُ مَا نُخْفِي وَمَا نُعْلِنُ ۗ وَمَا يَخْفَىٰ عَلَى اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ فِي الْأَرْضِ وَلَا فِي السَّمَاءِ

✅ رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلَاةِ وَمِنْ ذُرِّيَّتِي ۚ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِ، رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ

✅ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا

✅ رَبَّنَا آتِنَا مِنْ لَدُنْكَ رَحْمَةً وَهَيِّئْ لَنَا مِنْ أَمْرِنَا رَشَدًا

✅ رَبِّ إِنِّي وَهَنَ الْعَظْمُ مِنِّي وَاشْتَعَلَ الرَّأْسُ شَيْبًا وَلَمْ أَكُنْ بِدُعَائِكَ رَبِّ شَقِيًّا 

✅ رَبِّ اشْرَحْ لِي صَدْرِي, وَيَسِّرْ لِي أَمْرِي, وَاحْلُلْ عُقْدَةً مِنْ لِسَانِي, يَفْقَهُوا قَوْلِي، رَبِّ زِدْنِي عِلْمًا

✅ لَا إِلَٰهَ إِلَّا أَنْتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنْتُ مِنَ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْنِي فَرْدًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْوَارِثِينَ

✅ أَنِّي مَسَّنِيَ الضُّرُّ وَأَنْتَ أَرْحَمُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبِّ أَنْزِلْنِي مُنْزَلًا مُبَارَكًا وَأَنْتَ خَيْرُ الْمُنْزِلِينَ

✅ رَبِّ أَعُوذُ بِكَ مِنْ هَمَزَاتِ الشَّيَاطِينِ، وَأَعُوذُ بِكَ رَبِّ أَنْ يَحْضُرُونِ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاغْفِرْ لَنَا وَارْحَمْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّاحِمِينَ

✅ رَبَّنَا اصْرِفْ عَنَّا عَذَابَ جَهَنَّمَ ۖ إِنَّ عَذَابَهَا كَانَ غَرَامًا

✅ رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَّاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا

✅ رَبِّ هَبْ لِي حُكْمًا وَأَلْحِقْنِي بِالصَّالِحِينَ، وَاجْعَلْ لِي لِسَانَ صِدْقٍ فِي الْآخِرِينَ، وَاجْعَلْنِي مِنْ وَرَثَةِ جَنَّةِ النَّعِيمِ، وَلَا تُخْزِنِي يَوْمَ يُبْعَثُونَ، يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَلَا بَنُونَ، إِلَّا مَنْ أَتَى اللَّهَ بِقَلْبٍ سَلِيمٍ.

✅ رَبِّ نَجِّنِي وَأَهْلِي مِمَّا يَعْمَلُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَدْخِلْنِي بِرَحْمَتِكَ فِي عِبَادِكَ الصَّالِحِينَ

✅ رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي، رَبِّ انْصُرْنِي عَلَى الْقَوْمِ الْمُفْسِدِينَ

✅ رَبَّنَا وَسِعْتَ كُلَّ شَيْءٍ رَحْمَةً وَعِلْمًا فَاغْفِرْ لِلَّذِينَ تَابُوا وَاتَّبَعُوا سَبِيلَكَ وَقِهِمْ عَذَابَ الْجَحِيمِ

✅ رَبَّنَا وَأَدْخِلْهُمْ جَنَّاتِ عَدْنٍ الَّتِي وَعَدْتَهُمْ وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِهِمْ وَأَزْوَاجِهِمْ وَذُرِّيَّاتِهِمْ ۚ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا اكْشِفْ عَنَّا الْعَذَابَ إِنَّا مُؤْمِنُونَ

✅ رَبِّ أَوْزِعْنِي أَنْ أَشْكُرَ نِعْمَتَكَ الَّتِي أَنْعَمْتَ عَلَيَّ وَعَلَىٰ وَالِدَيَّ وَأَنْ أَعْمَلَ صَالِحًا تَرْضَاهُ وَأَصْلِحْ لِي فِي ذُرِّيَّتِي ۖ إِنِّي تُبْتُ إِلَيْكَ وَإِنِّي مِنَ الْمُسْلِمِينَ

✅ رَبَّنَا اغْفِرْ لَنَا وَلِإِخْوَانِنَا الَّذِينَ سَبَقُونَا بِالْإِيمَانِ وَلَا تَجْعَلْ فِي قُلُوبِنَا غِلًّا لِلَّذِينَ آمَنُوا رَبَّنَا إِنَّكَ رَءُوفٌ رَحِيمٌ

✅ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ، رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ

✅ رَبَّنَا أَتْمِمْ لَنَا نُورَنَا وَاغْفِرْ لَنَا ۖ إِنَّكَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ

✅ رَبِّ ابْنِ لِي عِنْدَكَ بَيْتًا فِي الْجَنَّةِ... وَنَجِّنِي مِنَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ

✅ رَبِّ لَا تَذَرْ عَلَى الْأَرْضِ مِنَ الْكَافِرِينَ دَيَّارًا، إِنَّكَ إِنْ تَذَرْهُمْ يُضِلُّوا عِبَادَكَ وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا

✅ رَبِّ اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِمَنْ دَخَلَ بَيْتِيَ مُؤْمِنًا وَلِلْمُؤْمِنِينَ وَالْمُؤْمِنَاتِ وَلَا تَزِدِ الظَّالِمِينَ إِلَّا تَبَارًا

✅ رَبِّ إِنِّي لِمَا أَنْزَلْتَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ فَقِيرٌ

✅ اللَّهُمَّ رَبَّنَا... ارْزُقْنَا وَأَنْتَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ

✅ رَبَّنَا آمَنَّا فَاكْتُبْنَا مَعَ الشَّاهِدِينَ

Saturday, 14 February 2026

ROZA TIME TABLE 2026 JAMDASHAHI BASTI

Wednesday, 8 October 2025

کایا پلٹ بوڑھا بھی جوان

کایا پلٹ، بوڑھا بھی جوان یہ نسخہ حضرت نصیر الدین چراغ دہلوی رحمتہ الللہ علیہ کا ہے، اس کو گجراتی جنتری کے طریقے سے لکھا گیا ہے، میں بھی اس طریقے سے لکھا ہے، اس نسخہ کے استعمال کرنے سے فوائد پہلے ماہ سے شروع ہوتے ہے اس کیی تفصیل ملاحظہ فرمائیں، پہلے ماہ معدہ اور آنتوں کے امراض کو فائدہ ہوتا ہے۔ دوسرے ماہ جگر، تیسرے ماہ گردے اور مثانہ، چوتھے ماہ آنکھ کی روشنی بڑھ جاتی ے، پانچ ماہ بعد دل کے امراض، چھٹے ماہ جوڑوں کے امراض، ساتویں ماہ جریان اور منی کے امراض، آٹھویں ماہ قوت حافظہ، نو ماہ بعد سفید بال سیاہ ہونا شروع ہوجاتے ہے ، دس ماہ بعد طبیعت میں جوش و ولولہ، گیارہ ماہ بعد روحانی لطافت، بارہ ماہ کے بعد کایا پلٹ مکمل ہو جاتی ہے. ھوالشافی کالی ہریڑ ایک سو پچاس گرام کا سفوف کر کے دیسی گھی یا روغن بادام سے چرب کرلیں اور ساتھ جو کچھ ملانا ہوگا اسکی تفصیل نیچے لکھ رہا ہوں. یہ ایک سو پچاس گرام سفوف دو ماہ چلے گا، پھر نیا بنا کر جس موسم کی چیز لکھی ہے، وہ ملا لیا کریں، پورا ایک سال استعمال کر کے پورے جسم کی کایا پلٹ اپنی نظروں کے سامنے دیک لے، . سفوف کو چرب کرنے کا طریقہ دیسی گھی یا خالص روغن بادام کو ہاتھوں کی ہتھیلیوں پر لگا کر دونوں ہاتھوں سے سفوف کو ملیں، اسی طرح دو تین بار کریں، تا کہ گھی یا روغن کی وجہ سے سفوف میں چکنائی آجائے. بہت زیادہ مقدار میں گھی نہ ڈالیں، بس ہلکا سا تا کہ سفوف، سفوف ہی رہے صرف اس میں چکنائی کا اثر آجائے، 1- چیت اور بیساکھ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام شہد ملا کر پانچ گرام روزانہ ایک بار، 2- جیٹھ اور اساٹھ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام گڑ ملا کر پانچ گرام روزانہ 1 بار، 3- ساون اور بھادوں میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام نمک سیاہ ملا کر پانچ گرام روزانہ 1 بار، 4- اسوں اور کارتک میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام مصری ملا کر پانچ گرام روزانہ 5- مگھسر اور پوہ میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام سونٹھ کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ، 6- ماگھ اور پھاگن میں 150 گرام سفوف میں 150 گرام فلفل دراز کا سفوف ملا کر پانچ گرام روزانہ ایک بار، نوٹ --- ایک سو پچاس گرام کالی ہریڑ کا چرب شدہ سفوف ہو اور ایک سو پچاس گرام ساتھ جو چیز ملائی جائیگی تو وزن تین سو گرام ہو جائے گا اور پانچ گرام روزانہ لینے سے دو ماہ نکل جائے گا. دو ماہ بعد نیا سفوف بنا کر چرب کر کے موسم کے لحاظ سے جو چیز لکھی ہو وہ ملا لیا کریں. اور ھندی مہینے جنتری یا اخبار سے دیکھ لیا کریں. مثال کے طور پر اب "ساون" کا مہینہ جا رہا ہے تو سفوف ہریڑ کے ساتھ سونٹھ کا پاؤڈر ملا کر پانچ گرام روزانہ لیں گے.، اس ترکیب میں آسانی یہ ہے کہ سال کے جس مہینے سے مرضی ہو شروع کر سکتے ہیں

Friday, 12 September 2025

juma ki taqreer 12-09 2025

 

https://voca.ro/14aXIqSxnKSC

Friday, 7 February 2025

जूमा कि तक़रीर जामा मस्जिद पूराकोठी ज़िला अरवल बिहार

 

Saturday, 12 October 2024

तौशा शरीफ गयारहवीन शरीफ

 तौश ए गौस ए आज़म रदियल्लहु अन्हु  (फुल)


*(1)सूजी 6 किलो*

*(2)चीनी 6 किलो*

*(3)दूध   6 किलो*

*(4)असली घी    6 किलो*


*(5)बादाम 1  1/2 किलो*

*(6)पिस्ता  1  1/2 किलो* 

*(7)गरी      1  1/2 किलो*

*(8)किशमिश 1  1/2 किलो*


*(9)लौंग    150 ग्राम*

*(10)दार चीनी 150 ग्राम* 

*(11)छोटी इलाइची 150 ग्राम*





*तौश ए गौस ए आज़म रदियल्लहु अन्हु (आधा)*


*(1)सूजी 3 किलो*

*(2)चीनी 3 किलो* 

*(3)दूध   3 किलो*

*(4)असली घी    3 किलो* 


*(5)बादाम 750 ग्राम* 

*(6)पिस्ता  750  ग्राम* 

*(7)गरी      750 ग्राम*

*(8)किशमिश 750 ग्राम*


*(9)लौंग    75 ग्राम*

*(10)दार चीनी 75  ग्राम*

*(11)छोटी इलाइची 75 ग्राम*



*तौश ए गौस ए आज़म रदियल्लहु अन्हु (आधे का आधा)*


*(1)सूजी 1 1/2 किलो*

*(2)चीनी 1 1/2 किलो*

*(3)दूध   1 1/2  किलो* 

*(4)असली घी    1 1/2 किलो* 


*(5)बादाम 375 ग्राम* 

*(6)पिस्ता  375 ग्राम*

*(7)गरी      375 ग्राम*

*(8)किशमिश 375 ग्राम*


*(9)लौंग    37.5 ग्राम*

*(10)दार चीनी 37.5  ग्राम*

*(11)छोटी इलाइची 37.5 ग्राम*





*तौश ए गौस ए आज़म रदियल्लहु अन्हु बनवाने के लिए राब्ता करें मौलाना सिराजुद्दीन साहब क़िब्ला +919452806324 - +919918485073*

Sunday, 6 October 2024

नमाज़ टाइम टेबल हुसैनी मस्जिद प्रेमिलागंज कालोनी वार्ड क्रमांक 13 विक्रमगढ़ आलोट नियर रेलवे स्टेशन

 

क्रमांक नमाज़ के नाम अज़ान जमाअत तारीख
01 फजर 05:35 06:05 07-10-24
02 ज़ुहर 01:45 02:00 07-10
03 असर 04:35 04:50 07-10
04 मगरिब 06:19 06:21 07-10
05 ईशा 08:10 07:55 07-10
Cell Cell Cell Cell Cell
Cell Cell Cell Cell Cell
Cell Cell Cell Cell Cell
Cell Cell Cell Cell Cell

Friday, 27 September 2024

जुमा की तक़रीर 27-09-2024 हुसैनी जामा मस्जिद विक्रमगढ़ आलोट ज़िला रतलाम मध्य प्रदेश इंडिया 23 रबीउल अव्वल 1447 मुहम्मद अब्दुर रहीम खान क़ादरी रज़वी जमदा शाही बस्ती उत्तर प्रदेश इंडिया मोबाइल नंबर 7860762579

 

Friday, 13 September 2024

जुमा तक़रीर 13-09-2024 बरोज़ जुमा 09 रबीउल अव्वल 1447


दारुल उलूम अहले सुन्नत क़ादिरिया लॅच्छमनपुर ज़िला बस्ती उत्तर प्रदेश

Friday, 5 July 2024

طلاق کے کاغذ رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ


طلاق کے کاغذ

رونگٹے کھڑے کر دینے والا سچا واقعہ


کل رات ایک ایسا واقعہ ہوا جس نے زندگی کی کئی پہلوؤں کو چھو لیا۔ قریب شام کے7 بجےہونگے، موبائل کی گھنٹی بجی۔ فون اٹھایا تو ادھر سے رونے کی آواز۔۔۔

میں نے چپ کرایا اور پوچھا کہ بھابی جی آخر ہوا کیا؟؟

ادھر سے آواز آئی آپ کہاں ہیں؟ اور کتنی دیر میں آ سکتے ہیں؟

میں نے کہا آپ پریشانی بتائیں اور بھائی صاحب کہاں ہیں؟ اور ماں جی کدھر ہیں؟ آخر ہوا کیا ہے؟

لیکن ادھر سے صرف ایک ہی رٹ کہ آپ فوراً آجائیے۔ 

میں اسے مطمئن کرتے ہوئے کہا کہ ایک گھنٹہ لگے گا پہنچنے میں۔ جیسے تیسے گھبراہٹ میں پہنچا۔


دیکھا کہ بھائی صاحب، (جو ہمارے جج دوست ہیں) سامنے بیٹھے ہوئے ہیں۔ 

بھابی جی رونا چیخنا کر رہی ہیں۔ 12 سال کا بیٹا بھی پریشان ہے اور 9 سال کی بیٹی بھی کچھ کہہ نہیں پا رہی ہے۔ 


میں نے بھائی صاحب سے پوچھا کہ آخر کیا بات ہے؟ 

بھائی صاحب کچھ جواب نہیں دے رہے تھے۔


پھر بھابی جی نے کہا؛ یہ دیکھیے طلاق کے کاغذات۔


 کورٹ سے تیار کرا کر لائے ہیں۔  مجھے طلاق دینا چاہتے ہیں۔

میں نے پوچھا "یہ کیسے ہو سکتا ہے؟؟؟  اتنی اچھی فیملی ہے، دو بچے ہیں۔ سب کچھ سیٹلڈ ھے۔  پہلی نظر میں مجھے لگا کے یہ مذاق ہے۔ 


لیکن میں نے بچوں سے  پوچھا دادی کدھر ھے؟ تو بچوں نے بتایا:  پاپا  انہیں 3 دن پہلے نوئیڈا کے "اولڈ ایج ہوم" میں شفٹ کر آئے ہیں۔


میں نے نوکر سے کہا: مجھے اور بھائی صاحب کو چائے پلاؤ 

کچھ دیر میں چائے آئی. بھائی صاحب کو میں نے بہت کوشش کی چائے پلانے کی۔ مگر انہوں نے نہیں پیا اور کچھ ہی دیر میں وہ معصوم بچے کی طرح پھوٹ پھوٹ کر رونے لگے۔  اور بولے میں نے 3 دنوں سے کچھ بھی نہیں کھایا ہے۔ میں اپنی 61 سال کی ماں کو کچھ لوگوں کے حوالے کر کے آیا ھوں۔ 


پچھلے سال سے میرے گھر میں ماں کے لیے اتنی مصیبتیں ہوگئیں  کہ بیوی نے قسم کھا لی کہ "میں ماں جی کا دھیان نہیں رکھ سکتی"

نہ تو یہ ان سے بات کرتی تھی اور نہ میرے بچے ان سے بات کرتے تھے۔  


روز میرے کورٹ سے آنے کے بعد ماں بہت روتی تھی۔ 

نوکر تک بھی ان سے خراب طرح سے پیش آتے تھے اور اپنی من مانی کرتے تھے۔ 


ماں نے 10 دن پہلے بول دیا:  تو مجھے اولڈ ایج ھوم میں ڈال دے۔ میں نے بہت کوشش کی پوری فیملی کو سمجھانے کی، لیکن کسی نے ماں سے سیدھے منہ بات تک نہیں کی۔ 

جب میں دو سال کا تھا تب ابو انتقال کرگئے تھے۔ ماں  نے دوسروں کے گھروں میں کام کر کے مجھے پڑھایا۔ اس قابل بنایا کے میں آج ایک جج ھوں۔

لوگ بتاتے ہیں کہ ماں دوسروں کے گھر کام کرتے وقت کبھی بھی مجھے اکیلا نہیں چھوڑتی تھی۔ اس ماں کو میں آج اولڈ ایج ہوم میں چھوڑ آیا ہوں۔ میں اپنی ماں کی ایک ایک دکھ کو یاد کرکے تڑپ رہا ہوں جو انھوں نے صرف میرے لئے اٹھائے  تھے۔ مجھے آج بھی یاد ھے جب میں میٹرک کے امتحان دینے والا تھا۔ ماں میرے ساتھ رات رات بھر بیٹھی رہتی تھی۔ ایک بار  جب میں اسکول سے گھر آیا تو ماں کو بہت زبردست بخار میں مبتلا پایا۔ پورا جسم گرم اور تپ رہا تھا۔ میں نے ماں سے کہا تجھےتیز بخار ہے۔ تب ماں ہنستے ہوئے بولی ابھی کھانا بنا کر آئی ہوں اس لئے گرم ہے۔ 


لوگوں سے ادھار مانگ کر مجھے  یونیورسٹی سے *ایل ایل بی* تک پڑھایا۔ 


 مجھے ٹیوشن تک نہیں پڑھانےدیتی تھی۔ کہیں میرا وقت برباد نہ ہو جائے۔ 

 کہتے کہتے اور زیادہ زور سے رونے لگے اور کہنے لگے۔ جب ایسی ماں کے ہم نہیں ھو سکے تو اپنے بیوی اور بچوں کے کیا ہوں گے۔ 

ہم جن کے جسم کے ٹکڑے ہیں، آج ہم ان کو ایسے لوگوں کے حوالے کر آئے جو ان کی عادت، انکی بیماری، انکے بارے میں کچھ بھی نہیں جانتے ہیں۔ جب میں ایسی ماں کے لئے کچھ بھی نہیں کر سکتا تو میں کسی اور کے لئے بھلا کیا کر سکتا ہوں۔ 


آذادی اگر اتنی پیاری ھے اور ماں اتنی بوجھ ہے تو، میں پوری آزادی دینا چاہتا ہوں۔ 


جب میں بغیر باپ کے پل گیا تو یہ بچے بھی پل جاینگے۔ اسی لیے میں طلاق دینا چاہتا ہوں۔

ساری پراپرٹی میں ان لوگوں کے حوالے کرکے  اس اولڈ ایج ھوم میں رہوں گا۔ وہاں کم سے کم ماں کے ساتھ رہ تو سکتا ہوں۔ 

اور اگر اتنا سب کچھ کرنے کے باوجود ماں، اولڈ ایج ہوم میں رہنے کے لئے مجبور ہے تو ایک دن مجھے بھی آخر جانا ہی پڑے گا۔ 


ماں کے ساتھ رہتے رہتے عادت بھی ھو جائےگی۔ ماں کی طرح تکلیف تو نہیں ہوگی۔

جتنا بولتے اس سے بھی زیادہ رو رہے تھے۔ اسی درمیان رات کے 12:30 ھوگئے۔ میں نے بھابی جی اور بچوں کے چہروں کو دیکھا۔ 

ان کے چہرے پچھتاوے کے جذبات سے بھرے ہوئے تھے۔ 


میں نے ڈرائیور سے کہا؛ ابھی ہم لوگ اولڈ ایج ہوم چلیں گے۔  بھابی جی، بچے اور ہم سارے لوگ اولڈ ایج ہوم پہنچے ،

 بہت زیادہ درخواست کرنے پر گیٹ کھلا۔ 

 بھائی صاحب نے گیٹ کیپر کے پیر پکڑ لیے۔ بولے میری ماں ہے۔ میں اسے لینے آیا ہوں۔ 

چوکیدار نے پوچھا "کیا کرتے ہو صاحب"؟ 

بھائی صاحب نے کہا۔ میں ایک جج ہوں۔ 


اس چوکیدار نے کہا "جہاں سارے ثبوت سامنے ہیں۔ تب تو آپ اپنی ماں کے ساتھ انصاف نہیں کر پائے۔ اوروں کے ساتھ کیا انصاف کرتے ہوں گے صاحب؟


 اتنا کہہ کر ہم لوگوں کو وہیں روک کر وہ اندر چلا گیا۔ 

اندر سے ایک عورت آئی جو وارڈن تھی۔ اس نے بڑے زہریلے لفظ میں کہا۔  2 بجے رات کو آپ لوگ لے جاکے کہیں اسے مار دیں تو میں اللہ کو کیا جواب دوں گی؟ 


میں نے وارڈن سے کہا "بہن آپ یقین کیجئے یہ لوگ بہت  پچھتاوے میں جی رہے ہیں"


آخر میں کسی طرح انکے کمرے میں لے گئی. کمرے کا جو نظارہ تھا اسے لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ صرف ایک فوٹو جس میں پوری فیملی ہے، وہ بھی ماں کے بغل میں جیسے بچے کو سلا رکھا ھے۔ 


مجھے دیکھی تو اسے لگا کہیں بات نہ کھل جائے۔ 

لیکن جب میں نے کہا کہ ھم لوگ آپ کو لینے آئے ھیں۔ تو پوری فیملی ایک دوسرے سے لپٹ کر رونے لگی۔  آس پاس کے کمروں میں اور بھی بزرگ تھے۔ سب لوگ جاگ کر باہر تک ہی آگئے۔ انکی بھی آنکھیں نم تھیں۔ 


کچھ وقت کے بعد چلنے کی تیاری ھوئی۔ پورے اولڈ ہوم کے لوگ باہر تک آئے۔ کسی طرح ہم لوگ اولڈ ایج ہوم کے لوگوں کو چھوڑ پائے۔ سب لوگ اس امید سے دیکھ رہے تھے، شاید انہیں بھی کوئی لینے آئے۔ 

راستے بھر بچے اور بھابی جی تو چپ چاپ رہے۔ مگر ماں اور  بھائی صاحب پرانی باتیں یاد کرکے رو رہے تھے۔ گھر آتے آتے قریب 3:45 ھو گئے۔ 


بھابی جی بھی اپنی خوشی کی چابی کہاں ہے یہ سمجھ گئی تھیں۔ 


میں بھی چل دیا لیکن راستے بھر وہ ساری باتیں اور نظارے آنکھوں میں گھومتے رھے۔ 


*ماں صرف ماں ھے*

*اسکو مرنے سے پہلے نہ ماریں۔ 

ماں ہماری طاقت ہے۔ اسے کمزور نہیں ھونے دیں۔ اگر وہ کمزور ہو گئی تو ثقافت کی ریڑھ کمزور ھو جاۓگی ۔ اور بنا ریڑھ کا معاشرہ کیسا ھوتا ھے۔ یہ کسی سے چھپا ہوا نہیں ھے۔ 


اگر آپ کے آس پاس یا رشتہ دار میں اسطرح کا کوئی مسئلہ ھو تو انھیں یہ ضرور پڑھوایں اور اچھی طرح سمجھایں،  کچھ بھی کرے لیکن ھمیں جنم دینے والی ماں کو بے گھر ، بے سہارا نہیں ہونے دیں۔  اگر ماں کی آنکھ سے آنسو گر گئے تو یہ قرض کئی صدیوں تک رہے گا۔ 


یقین مانیں سب ھوگا  تمہارے پاس لیکن سکون نہیں ھوگا۔ 

سکون صرف ماں کے آنچل میں ھوتا ھے۔ اس آنچل کو بکھرنے مت دینا۔ 


اس دل کو چھو لینے والی داستان کو خود بھی پڑھیں۔ اور اپنے بچوں کو بھی پڑھائیں تاکہ اس سے عبرت حاصل کر سکیں۔